رجعت کا ثبوت
سوال
ایک اُلجھا ہوا سوال ہے، طلاق کا جھگڑا ہے (جس کا خلاصہ کچھ جواب سے ہی ظاہر ہو رہا ہے) جس پر دار الافتاء سے مندرجہ ذیل حکم لکھا گیا ہے۔
جواب
نفس طلاق پر دونوں کا اتفاق ہے، اس کے بعد شوہر دعوی کرتا ہے، کہ اس نے عدت ختم ہونے سے پہلے رجعت کر لی، اب اگر عورت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ہاں شوہر نے رجعت کر لی تھی، یا اس کا اقرار کرتی ہے، کہ شوہر نے میرے ساتھ ہم بستری کی یا بوس وکنار کیا ہے، تو پھر کسی مزید شہادت کی حاجت نہیں، رجعت کی صحت وثبوت کے لئے یہی کافی ہے، اگر بیوی رجعت کا انکار کرتی ہے اور صحبت وغیرہ کا بھی انکار…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔