واقعه طلاق مع فيصله عدالت
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ زید اور اس کی منکوحہ ہندہ کے وارثان میں ایسا اختلاف قبل از رخصتی ہوتا ہے، کہ زید اپنی منکوحہ ہندہ کو طلاق دیتا ہے، اور بعدہ جب ہندہ کے عزیز دوسرے عقد کا ارادہ کرتے ہیں تو زید طلاق دینے سے انکار کرتا ہے، بجبوری یہ معاملہ عدالت میں استقرار حق طلاق کا دعویٰ ہندہ کی جانب سے دائر ہوتا ہے، ہندہ مختلف بیان کرتی ہے، کہ زید نے مجھ کو طلاق میرے مکان پر دیدی اور چار گواہ جو کہ بروقت طلاق موجود تھے حلفیہ بیان کرتے ہیں کہ زید نے ہندہ کو طلاق دیدی۔
جواب
اگر گواہان مذکورہ عادل اور ثقہ ہیں تو شرعاً ہندہ پر طلاق واقع ہوگئی ہے اور ہندہ چونکہ غیر مدخولہ ہے، اسلئے زید کو اس طلاق سے رجعت کا حق بھی باقی نہیں رہا ہے عدالت اپیل کا ہندہ کے بھائی کی شہادت کو شرعاً عقلاً نا قابل اعتبار کہنا قانون شریعت سے ناواقفیت کی دلیل ہے، کیونکہ بھائی کی شہادت بہن کے حق میں شرعاً جائز اور معتبر ہے فتاوی عالم گیری کتاب الشہادت کی فصل ثالث میں ہے: ويجوز…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔