الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لفظ تلاخ سے طلاق

سوال

زید نے اپنی زوجہ کو ایک پرچہ لکھا اور اس میں یہ لکھا” میں تم کو تلاخ دے چکا بالتاء والخاء، اور یہ لفظ کئی جگہ لکھا ہے، اب سوال یہ ہوتا ہے کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اور وقوع کی صورت میں یہ کونسی طلاق ہوگی یعنی رجعی یا بائنہ یا مغلظہ؟

جواب

اگر شوہر نے ایسا پرچہ لکھ کر بیوی کے پاس بھیجا اور اس کو اپنی تحریر کا اقرار ہے یا اس پر شرعی شہادت موجود ہے، اور اس میں تین مرتبہ طلاق (تلاخ) ہے تو بلاشبہ طلاق مغلظہ ہوگئی، صریح الفاظ میں نیت کی ضرورت نہیں، علامہ شامی نے تصریح کی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو