لفظ طاق سے طلاق نہیں ہوتی
سوال
میرے رشتہ دار اور سسرال والے شریعت کے پابند نہیں، شریعت کے خلاف میری بیوی کے سامنے محبت کی باتیں مجھ سے برداشت نہ ہو سکیں، غصہ میں ایک سانس میں میری زبان سے یہ الفاظ نکل گئے، (۱) منو میں نے تمہیں طاق دی، (۲) منو میں نے تمہیں طاق دی، (۳) منو میں نے تمہیں طاق دی، اس کے بعد زبردستی مجھ سے کاپی پر یہ تحریر لکھوائی، اب منو آنا چاہتی ہے، اس طرح سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
جواب
اگر لفظ طاق لکھا ہے، (بغیر لام کے) طلاق نہیں لکھا یا زبان سے اسی طرح کہا ہے تو کوئی طلاق نہیں ہوئی، اگر لفظ طلاق لکھا ہے، یا کہا ہے تو اس کو دوبارہ صحیح صحیح لکھے، کیونکہ یہ سوال پہلے بھی آچکا ہے، واقعہ بظاہر وہی ہے، مگر تحریر میں فرق ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔