لفظ طلاق اور تلاقی میں خسر داماد کا اختلاف
سوال
طلاق کا ایک مسئلہ عجیب طریقہ پر الجھ گیا ہے معاملات کو پورے طور پر سمجھنے کے لئے خسر داماد کے خطوط کے مضمون نقل کر کے بھیج رہا ہوں: (الف) خسر کا خط داماد کے نام تمہارا پیغام عزیزہ کو پہنچادیا، اور یہ بتلا دیا کہ تمہارے شوہر نے یہ کہا ہے کہ اگر عزیزہ ایک ہفتہ کے اندر ان کے گھر نہیں آجاتی تو ان کو طلاق دیتا ہوں، اور یہ بھی بتلایا کہ اس جملہ کو انہوں نے دو مرتبہ کہا تھا، چونکہ یہ مسئلہ شرعی تھا، اور بڑی حد تک پریشان کن بھی تھا، چنانچہ اس مسئلہ پر یہاں ایک عالم سے مشورہ لیا گیا کہ قاعدہ سے طلاق ہوگئی، انہوں نے یہ بھی…
جواب
اگر داماد کو خسر کی بات اور نقل پر اعتماد بھی تسلیم کر لیا جائے تب بھی معاملہ سہل ہے، وہ یہ کہ شوہر یہ کہدے کہ میں نے اپنی بیوی کو لوٹا لیا اور پھر بدستور تعلق زوجیت قائم کرلے، دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں، یہ حق عدت کے اندر اندر ہے، یعنی جس وقت الفاظ مذکورہ بیوی کے حق میں کہے ہیں اور بیوی ایک ہفتہ میں نہیں گئی، تو اس وقت تین حیض گذرنے سے پہلے پہلے شوہر کو اختیار مذکور حاصل ہے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔