الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لفظ” طل“ کا حکم

سوال

(۱) ایک استفتاء درج ذیل ہے، اس کے دو جواب، دو مجیب نے دیئے ہیں جو آپس میں متضاد ہیں، دونوں جواب پر محاکمہ فرماتے ہوئے اس کی بھی وضاحت فرمائیں کہ طلاق کے الفاظ کنائی کی کیا تعریف ہے، اور طلاق کے لئے کسی لفظ کے کنائی ہونے کے لئے کیا کچھ شرائط بھی ہیں؟ اور پھر یہ لفظ طل“کنائی ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کیوں؟ اور اگر نہیں تو کیوں؟ (۲)

جواب

عربی قاعدہ کے مطابق منادی میں ترخیم درست ہے، یعنی حرف اخیر کو حذف کر کے ماقبل اخیر پر کفایت کی جائے، جیسے یا طالق میں قاف کو حذف کر کے لام کو کسرہ برقرار رکھا جائے، تو یہ بمنزلہ یا طلاق کے ہے، لفظ طل“ میں الف بھی حذف ہے، اور قاف بھی حذف ہے اسلئے یہ ترخیم کے تحت داخل نہیں بلکہ مہمل لفظ ہو گیا، كناية عند الفقهاء ما لم يوضع له اى الطلاق واحتمله وغیره (درمختار ص: (۴۶۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو