تاش ناقض وضو نہیں
سوال
ایک شخص خوب تاش کھیلتا ہے، اذان ہونے پر نماز میں شریک ہو جاتا ہے وضو نہیں کرتا، کہتا ہے کہ میرا وضو قائم ہے، کیا تاش کھیلتے رہنے سے وضو رہ جاتا ہے؟
جواب
تاش کھیلنا منع ہے۔ مگر یہ ناقض وضو نہیں جیسے کہ اور بہت سے گناہ ہیں گناہ ہونے کی وجہ سے اس کا ترک کرنا ضروری ہے، اگر چہ نماز ادا ہو جائے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔