پلو تھا مارے ہوئے نیند آ گئی تو کیا حکم ہے
سوال
کوئی شخص باوضو پلو تھا مار کر نماز کی حالت کی طرح بیٹھا ہوا ہے، داخل نماز نہیں ہے، نیند آ گئی، اس حالت میں اس کا ایک ہاتھ زمین پر ٹک گیا مگر نیند فورا ٹوٹ گئی، تو وضو باقی رہا، یا جاتا رہا، نیز ہاتھ ٹیکنے کے تھوڑی دیر بعد دونوں صورتوں کا کیا حکم ہے؟
جواب
اگر وہ اسی طرح بیٹھا رہا بیٹھنے کی جگہ زمین سے نہیں اٹھی تو وضو بر قرار ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔