الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وضو میں داڑھی کا دھونا اور خلال کرنا

سوال

حد الوجه في الوضوء کی تحدید میں جو فقہاء نے من قصاص الشعر الى اسفل الذقن لکھا ہے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ غایت داخل مغیا ہے یا نہیں؟ یعنی اسفل ذقن کا دھونا ضروری ہے یا نہیں؟ اور داڑھی ہونے کی صورت میں کیا حکم ہے نیز یہ بھی تحریر فرمائیں کہ تخلیل لحیہ کے بارے میں مفتی بہ قول کیا ہے؟ اگر اسفل ذقن داخل فی الغسل نہیں ہے تو تخلیل لحیہ کیوں مشروع ہے جب کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ سنت اکمال الفرض کو کہتے ہیں۔

جواب

وهو مشتق من المواجهة من مبدأ سطح جهته الى اسفل ذقنه أي منبت اسنانه السفلى تفسير للذقن بالتحريك أي الى اسفل العظم الذي عليه الاسنان السفلى وهو ما تحت العنفقة ا هـ در مختار شامی اسفل ذقن کو وضو میں دھویا جائے گا، اس وجہ سے جب اس پر لحیہ ہو اور وہ خفیفہ ہو تو اس کا غسل ساقط نہیں ہوتا البتہ اگر لحیہ کثیر ہو تو حصہ ذقن مستور کا غسل ساقط ہو جاتا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو