الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پانی پیر پر مضر ہو تو مسح کی صورت

سوال

میرے پیر کے اوپری حصہ پر آدھے سے زائد جگہ پر ایک اکزیما ہو گیا، کھجلی ہوتی ہے اور پانی پڑنے سے مواد بھی ہو جاتا ہے، ڈاکٹر پانی کو مضر بتاتے ہیں، وضو کرنے میں پہلے بقیہ حصہ کو جب دھوتا ہوں تو چونکہ وہ درمیان میں ہے اس لئے پانی سے بچت نہیں ہو پاتی، اسلئے دریافت طلب یہ ہے کہ کیا پیر کو نہ دھوؤں؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مسح کر لو، تو مسح کی ترکیب نہیں معلوم ہے، اس سے مطلع فرمائیں۔

جواب

جس حصہ قدم پر پانی مضر ہے اس پر مسح کر لیا جائے یعنی ہر ہاتھ پھیر لیا جائے اور بقیہ کو دھو لیا جائے اس طرح کہ وہاں پانی نہ پہونچے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو