الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عضو پر تری کا وجود موجب غسل ہے یا نہیں؟

سوال

زید نیند سے بیدار ہوا ذکر پر تری دیکھی نہ معلوم منی ہے یا مذی یا ودی نہ خواب یاد ہے تو کیا غسل واجب ہے؟ اگر واجب ہے در صورت عدم انتشار قبل النوم کی حالت میں جیسا کہ عالمگیری نے ص ۰ ا ج ۱، میں نقل کیا ہے تو زید کا اسپر یہ اشکال ہیکہ ایک تو یہ معلوم نہیں کہ منی ہے یا نہیں، دوسرے اگر فرض کر لیا جائے کہ منی ہی ہے تو بھی دفق بالکل نہیں کیونکہ اگر دفق ہوتا تو دوسرے محل پر کچھ نہ کچھ ضرور لگتی اور پھر یہ کہ بعض اوقات محض انتشار سے حالت یقظہ میں بلا دفق کے تری ذکر پر آجاتی ہے کسی شخص کے، تو کیا غالب ظن سے یہ حکم نہیں لگا…

جواب

ولهما ماروى انه صلی اللہ علیہ وسلم سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَمْ يَذْكُرُ احْتِلَامًا قَالَ يَغْتَسِلُ ولان النوم راحة تهيج الشهوة وقد يرق المنى لعارض والاحتياط لازم في باب العبادات وهذا اذا لم يكن ذكره منتشراً قبل النوم لان الانتشار سبب للمذى فيحال عليه اهـ مراقی الفلاح قوله قد يرق بطول المدة فتصير صورته كصورة المذى اه(طحطاوی)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو