بے علم دھوبی کا دھویا ہوا کپڑا
سوال
دھوبی جو کپڑے دھوتے ہیں عموماً طہارت نجاست سے واقف نہیں ہوتے ہیں نیز بعض شہر کے اندر نالیوں کے پانی سے یا ماء راکد متعفن سے دھوتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
اگر وہ پانی کثیر ہے اور محض مکث کی وجہ سے متعفن ہو گیا، یا وہ پانی جاری ہے اور اس میں نجاست کا اثر ظاہر نہیں تو اس میں کپڑوں کا دھونا درست ہے کپڑوں پر اگر پہلے سے نجاست نہیں تھی تب تو انکی پاکی میں کوئی اشکال نہیں، اگر نجاست تھی اور وہ مرئی تھی تو اسکے زوال اور بقاء کو خود دیکھ لیا جائے، اگر غیر مرئیہ تھی تب بھی چونکہ ہر دھوبی کم از کم تین مرتبہ تو ضرور ہی ہر کپڑے کو دھوتا ہے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔