صابن کو شبہ کی وجہ سے ناپاک نہیں کہا جائے گا
سوال
خوشبو دار نہانے اور کپڑے دھونے کے لیے صابن جو کمپنیوں میں تیار کیے جاتے ہیں ان کے بارے میں سنا ہے کہ خنزیر کی چربی سے ترکیب دی جاتی ہے اور کیمیاوی رد عمل سے نمکیات میں تبدیل کر کے صابن میں ملایا جاتا ہے تو اس کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟
جواب
مردار کی چربی نجس ہے اور خنزیر نجس العین ہے جب تک قلب ماہیت ہو کر حقیقت اور خواص کی تبدیلی نہ ہو جائے استعمال جائز نہیں بلا تحقیق شبہ کی بناء پر صابن کو نجس کہنے کا بھی حق نہیں، اگر نجس صابن کپڑے یا بدن میں استعمال کر کے دھو ڈالا اور پاک کر لیا تو نماز درست ہو جائے گی بدن اور کپڑے کو پاک کہا جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔