خنزیر کی چربی صابن میں
سوال
ایک مسلم صاحب صابن کے بیوپاری ہیں یہ خبر ملی ہیکہ تیل کی قیمتیں بڑھ جانے کی بنا پر گورنمنٹ نے مغربی ممالک سے درآمد ہونے والی چربی کو کوٹا صابن بنانے والی کمپنیوں کو دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس میں ہرقسم کے جانوروں (جسمیں سور خنزیر بھی شامل ہے) کی چربی ہوتی ہے، کمپنیاں اس درآمد شدہ چربی کو صابن میں ملاتی ہیں ایک دیندار مسلم ڈاکٹر ہے اس سے معلوم ہوا ہیکہ چربی کو کیمیائی رد عمل سے نمکیات میں تبدیل کر کے صابن میں ملایا جاتا تفصیل بالا کی روشنی میں براہ کرم اس مسئلہ کا جواب تحریر فرما دیں کہ خوشبودار نہانے اور کپڑے…
جواب
مردار کی چربی نجس ہے اور خنزیر نجس العین ہے۔ جب تک قلب ماہیت ہو کر حقیقت اور خواص کی تبدیلی نہ ہو جائے استعمال جائز نہیں بلاتحقیق محض شبہ کی بناء پر صابن کو نجس کہنے کا بھی حق نہیں اگر نجس صابن کپڑے یا بدن پر استعمال کر کے دھو ڈالا اور پاک کر لیا تو نماز درست ہو جائے گی بدن اور کپڑے کو پاک کہا جائے گا۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم حررة العبد محمود غفر لۂ دار العلوم دیوبند
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔