الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حالت حیض میں غلط فہمی سے صحبت کی سزا

سوال

ایک عورت کی حیض کی عادت چار یوم کی تھی حسب معمول چوتھے روز دن کے پانچ بجے حیض بند ہو گیا اور اس روز اس نے غسل بھی کر لیا اسی رات کو تقریبا رات کے ۱۱ بجے اس کے خاوند نے اس سے ہمبستری کی، صبح معلوم ہوا کہ خون جاری ہے رات کے تقریباً ہمبستری کرنے کے بعد علی ہذا صبح پھر خون بند ہو گیا اور کچھ غلط فہمیوں کی بنا پر یہ سمجھتے ہوئے کہ اب خون بند ہو گیا ہے دن کے تقریباً ۱۲ بجے بعد زن و شوہر ہمبستر ہوئے حالانکہ خون جاری تھا جس کا بعد میں اندازہ ہوا (دونوں کو)

جواب

اس صورت مین عند الحنفیہ شرعاً کوئی گناہ صدقہ وغیرہ واجب نہیں غلط فہمی کی بناء پر جو کچھ ہو گیا توبہ واستغفار کرلیں، واختلف العلماء في وجوب الكفارة فقال الشافعي في اصح قوليه وهو الجديد، ومالك وأبو حنيفة واحمد رحمهم الله في احدى الروايتين وجماهير السلف انه لاكفارة عليه وعليه ان يستغفر ويتوب اهـ بذل المجهود ص : ۱۵۸، ج: ا باب في اتيان الحائض)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو