الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مباشرت از حائضہ

سوال

جماع اور مباشرت میں کیا فرق ہے؟ بخاری شریف کے باب مباشرة الحائض نمبر ۲۰۷، میں جو احادیث بیان کی گئی ہیں انہیں دیکھ کر بعض مرشدین نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ جو انسان اپنے نفس پر قابو نہیں پاسکتا وہ حائضہ کی شرم گاہ پر کپڑا رکھ کرخواہش پوری کر سکتا ہے۔ لیکن حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے بہشتی زیور میں بحوالہ در مختار ص ۱۹۴ ج ۱، میں لکھا ہے کہ حیض کے زمانہ میں مرد کے پاس رہنا یعنی صحبت کرنا درست نہیں اور صحبت کے سواء اور سب باتیں درست ہیں یعنی ساتھ کھانا پینا لیٹنا وغیرہ درست ہے۔

جواب

جماع کو تو سب ہی جانتے ہیں، اس میں تو کوئی خفا نہیں۔ مباشرۃ کے معنی ہیں کھال سے کھال ملانا اور کبھی اس سے مراد لیتے ہیں مرد کے عضو مخصوص کا عورت کے عضو مخصوص سے بحالت شہوت بغیر کسی حائل کے ملانا جس کو مباشرت فاحشہ بھی کہتے ہیں جیسا کہ مراقی الفلاح میں ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو