الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حالت حیض میں وطی

سوال

اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی سے حالت حیض میں وطی کر لی اور مرد کو کچھ علم نہیں کہ حیض میں ہے یا طہر میں اور اس کی بیوی نے بھی اس بات کو شوہر کو نہیں بتایا، وطی سے فارغ ہونے کے بعد عورت نے پھر اپنے شوہر کو پوری بات بتادی کہ میں حیض کی حالت میں تھی، تو دریافت طلب بات یہ ہے کہ مرد گناہ کا مرتکب ہوگا یا نہیں؟ نیز اگر عورت حالت حیض میں بوجہ غلبہ شہوت کے اپنے شوہر کو وطی کرنے پر اصرار کرے تو مرد کو ایسی حالت میں کیا کرنا چاہیئے نیز عورت کی جانب سے یہ بھی خطرہ ہے کہ اگر اصرار کو پوار نہ کیا جائے تو کوئی برا فعل کر بیٹھے۔

جواب

اگر حالت حیض میں مرد نے عدم علم کی بناء پر جماع کیا اور عورت کو معلوم ہے تو عورت گناہ کبیرہ کی مرتکب ہوگی نیز اگر عورت حالت حیض میں بوجہ غلبہ شہوت کے مرد کو وطی پر مجبور کرے تو مرد کو وطی کرنا ایسی حالت میں بالکل درست نہیں ہے۔ ووطأها في الفرج عالماً بالحرمة عامداً مختاراً كبيرة لا جاهلاً ولا ناسياً ولا مكرهاً (كذا في البحر الرائق ص: ۱۹۷، ج: ۱)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو