استنجاء خشک کرتے ہوئے سلام و کلام
سوال
استنجاء خشک کرنے کے متعلق احقر کے خیالات ایسے تھے کہ اسمیں اگر چہ خاص استنجاء اور غسل کی طرح برہنگی نہیں ہوتی مگر کامل ستر پوشی بھی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے شرم آتی ہے لوگوں کے سامنے استنجاء خشک کرنے میں حیاداری چاہئے کہ جہان تک ہو سکے لوگوں کی نظروں سے بچکر استنجاء خشک کیا جائے بالخصوص عورتوں کے سامنے تو ہرگز نہ کرے وہ محرم ہوں یا نا محرم لیکن با وجود اس احتیاط کے استنجاء خشک کرنے میں بیت الخلاء کی طرح بالکل تنہائی بھی اکثر نہیں ہوتی جس میں کسی وقت کسی کی بات کا جواب دینا بھی ہوتا ہے جس کے جواز پر حضرت گنگوہی کا…
جواب
یہاں پر دو حالتیں قابل لحاظ ہیں ایک برہنگی دوسری خروج بول استنجاء خشک کرنے کے وقت عامۃً پہلی حالت نہیں ہوتی جو امور برہنگی کی وجہ سے ممنوع ہیں وہ اس حالت میں ممنوع نہیں، یہی محمل ہے فتاوی رشیدیہ کی عبارہ منقولہ کا، لکھنا پڑھنا کھانا پینا کلام سلام کرنا جواب دینا سب کا حکم اس سے معلوم ہو گیا، خروج بول کی حالت بھی سلام کلام وغیرہ سے مانع ہے اس میں وہ تفصیل ہے جو احقر نے پہلے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔