شک سے کنواں ناپاک نہیں ہوگا
سوال
موضع دمری والا ضلع دہرہ دون میں ایک قدیمی کنواں ہے اس کنویں سے ہندو مسلمان پانی پیتے رہے، عرصہ پندرہ بیس یوم سے ہندوؤں نے چماروں سے بھی اس کنویں سے پانی کھینچوانے کا ارادہ کر لیا ہے حاکم ضلع نے بھی اجازت دیدی ہے مسلمانوں نے حتی المقدور کوشش کی مگر نا کام رہے کنواں ہندوؤں کی ملکیت ہے مسلمان محض بحیثیت کاشتکار ہیں کنویں کے علاوہ اور کوئی انتظام پانی پینے کا نہیں۔
جواب
جب تک یقین نہ ہو جائے یا ظن غالب سے کنویں میں نجاست کا گرنا معلوم نہ ہو جائے اس وقت تک کنویں کا پانی شرعاً پاک ہی رہے گا۔ محض شک کی وجہ سے نا پاک نہ ہوگا۔ لہذا اس کا پینا اور دیگر ضروریات میں استعمال کرنا جائز ہوگا البتہ جب یقین یا ظن غالب سے کنویں میں نجاست کا گرنا معلوم ہو جائے تو اس کا استعمال کرنا جب تک کنواں پاک نہ ہو جائے جائز نہ ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔