حلقہ ذکر مخصوص ایام میں اور اس میں عورتوں کی شرکت
سوال
بعض لوگ بالالتزام ہر پیر اور جمعرات کو اور کسی کے مرنے پر تیسرے ساتویں اور چالیسویں دن راتوں میں حلقہ ذکر منعقد کرتے ہیں اور اس میں عورتوں کو بھی مردوں کے ساتھ بلایا جاتا ہے اور بعض جگہ خود عورتیں (بوڑھی و جوان ہر دو قسم) شریک ہوتی ہیں مردوں کے ذکر کو سننے کی غرض سے عین ذکر کے موقعہ پر چراغ گل کر دیا جاتا ہے اور ذکر کے بعد کچھ شیرینی تقسیم ہوتی ہے کیا ایسے حلقوں میں عورتوں کو شرعاً بھیجنا درست ہے؟
جواب
ذکر اللہ کی ترغیب اور فضیلت قرآن وحدیث شریف میں بکثرت وارد ہے مگر ان ایام اور تاریخوں کی تعیین بے اصل ہے اس کو شرعی چیز قرار دینا غلط ہے اور بدعت ہے اس پر التزام کرنا غیر ثابت کو لازم قرار دینا ہے جو احکام شرع میں تحریف ہے جو شرعاً مندوب ہو وہ بھی اصرار والتزام سے مکروہ ہو جاتی ہے۔ الاصرار على المندوب يبلغه الى حد الكراهة سباحة الفكر رد المحتار .
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔