مرتکب کبیرہ پیر کا حکم
سوال
جو پیر خلاف شرع کام کرتا ہے۔ یعنی نمازوں کا پابند نہیں یا ننگا بیٹھا ہوا ہے یا لوگوں کو گالیاں بکتا ہے بھنگ، چرس، سگریٹ، پیتا ہے اگر کوئی ان حرکات سے روکے تو کہدیتا ہے کہ یہ شریعت میں نا جائز ہیں اور ہم طریقت والے ہیں طریقت میں جائز ہیں ہمارا تعلق شریعت سے نہیں بلکہ معرفت سے ہے ایسے پیر سے بسا اوقات خارق عادات چیزیں صادر ہوتی ہیں اس کو خدا کی طرف سے کرامت کہیں گے یا شیطانی فعل سے تعبیر کریں گے امید ہے ان سوالات کے جوابات کتاب وسنت اور مذہب امام ابو حنیفہ اور ارشادات بزرگان دین واکابر دیوبند کی روشنی میں دیں گے اور…
جواب
ایسا پیر پیر تو ضرور ہے لیکن حضور ﷺ کا نائب ہرگز نہیں ورنہ خدا کے فرض اور حضور اکرم ﷺ کی سنت پر خود بھی عمل کرتا دوسروں کو بھی تاکید کرتا۔ ہرگز فرائض وسنن کو ترک نہ کرتا اور ان ناجائز حرکات سے روکنے پر وہ جواب ہرگز نہ دیتا جو دیا ہے۔ البتہ شیطان کا نائب ضرور ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔