الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حج کے بعد ایک پیر سے بیعت ہوا جس کے حالات یہ ہیں، اس کا حج باقی رہا یا نہیں؟

سوال

بکر حج کر کے آیا اور وہ ایسے آدمی سے مرید ہو گیا جس آدمی کو نمازی پور کے علماء دین چند وجوہات کی وجہ سے کفر کا فتوی دے کر اس کو علیحدہ کر دیا ہے، اور اس کو اپنے مرید کے دفتر سے نام کاٹ دیا، تو اب بکر کا حج برقرار رہا یا نہیں؟ اگر برقرار رہا تو ٹھیک کیا یا نہیں؟

جواب

اگر بکر نے خود اسلام کے خلاف کوئی ایسی چیز اختیار نہیں کی جس سے اس پر کفر کا حکم عائد ہو تو اس کا حج برقرار ہے، مگر بددین بے عمل خلاف سنت چلنے والے پیر سے مرید ہونا جائز نہیں، اس میں دین کی تباہی و بربادی ہے، ایسے شخص سے بیعت ہونا چاہئے جو بقدر ضرورت علم دین رکھتا ہو، اس کے عقائد قرآن وحدیث کے موافق ہوں، شریعت پر عمل کرتا ہو، متبع سنت ہو، دنیا کی محبت نہ رکھتا ہو، ہر کام میں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو