الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک جانور کو ذبح کیا وہ جا کر پانی میں ڈوب گیا اس کا کھانا

سوال

نیل گائے کو ذبح کیا جا رہا تھا، ابھی مکمل نہیں ہوا تھا اس میں جان کی رمق باقی تھی، کہ بدن جھاڑ کر بھاگ کھڑا ہوا اور ندی میں جا کر ڈوب مرا، پھر دوبارہ اس کو ذبح نہیں کیا جا سکا، شرعاً اس کا کھانا حلال ہوگا یا نہیں؟ کتنا ذبح کرنے کو ذبح شرعی (جو جانور کو حلال کر دے) سمجھا جائے گا؟

جواب

حلقوم، مری، ودجین اگر یہ رگیں کٹ چکی ہیں (جن کے بعد زندگی باقی نہیں رہتی) مگر وہ تڑپتا ہوا اٹھ کر قریب ہی کسی پانی میں جا گرا اور مر گیا، تو وہ حلال ہے اس کی موت ذبح کی وجہ سے ہوئی ہے، جیسے مرغ کو ذبح کر دیا جائے، وہ تڑپتا اور اچھلتا ہوا پانی میں جا گرے، اگر یہ رگیں پوری نہیں کٹی تھیں، اور اس کی زندگی متوقع تھی اور پانی میں ڈوب جانے کی وجہ سے موت واقع ہوئی ہے تو وہ مردار ہے،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو