مشین اور یہودی کا ذبیحہ
سوال
امریکہ میں میرے ایک بھائی زیر تعلیم ہیں وہ وہاں ذبیحہ کے گوشت کے شرعاً ہونے میں مشکوک ہیں، وہ کہتے ہیں کہ وہاں پر دو قسم کا گوشت ملتا ہے، پہلی یہ کہ مشین سے جانور کی گردن ایک دم کاٹ دی جاتی ہے، اور مشین سے ہی تھوڑی دیر میں گوشت کے ٹکڑے پیک ہو جاتے ہیں، دوسری قسم کا گوشت وہاں کے یہودی کاٹتے ہیں جسے کوشہ کہتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ یہودی جانور کے حلق میں چھری گھونپ کر ہلاک کرتے ہیں، نہ معلوم کچھ پڑھتے ہیں یا نہیں؟
جواب
مشین کا ذبیحہ تو ظاہر ہے کہ شرعی ذبیحہ نہیں ہے، یہودی اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر اور تورات کو آسمانی کتاب مانتے ہیں، اور جانور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لے کر ذبح کرتے ہیں کسی اور کا نام لے کر مثلاً حضرت عزیر علیہ السلام کا نام لے کر ذبح نہیں کرتے ہیں، تو اس میں شرعاً گنجائش ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔