الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دیو بندی کا ذبیحہ

سوال

بقر عید یعنی عید الاضحیٰ کے موقع پر میں نے چند بکرے اور چند بھینس اپنے ہاتھ سے ذبح کیا جو کہ حدیث وغیرہ میں دعائیں ہیں ان کو بھی پڑھا اور بسم اللہ اللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا اور میں مسلمان ہوں قریب قریب نمازیں بھی پڑھتا ہوں اور روزے بھی رکھتا ہوں، اللہ پاک اور اس کی کتاب اور اس کے رسول پر بھی عقیدہ دل سے رکھتا ہوں، میری غلطی اتنی ضرور ہے کہ میں علمائے دیوبند کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں اس وجہ سے میرے وہاں کے جیٹ طیارے جو کہ تازہ تازہ بریلی سے گالی بکنا سیکھ کر آئے ہیں، انہوں نے زبانی فتویٰ دیدیا کہ میرے ہاتھ کا ذبیحہ…

جواب

جو مسلمان بسم اللہ اللہ اکبر پڑھ کر ذبح کرے اس کی ذبح کی ہوئی بھینس بکری سب حلال ہے، علمائے دیو بند کا مسلک بفضلہ تعالیٰ قرآن پاک حدیث شریف فقہ حنفی اولیاء کرام کے عین مطابق ہے، اس مسلک کو صحیح نہ سمجھنے کی وجہ سے ذبیحہ کو حرام قرار دینا غلط اور عناد ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو