الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

متوحش جانور کو ذبح کرنے کے لئے سر پر لوہا مارنا

سوال

- ایک مذبح میں بہت سے بیل ہیں سب کو ذبح کرنا ہے، بعض بیل وحشی کے حکم میں داخل ہیں، کسی کو قریب نہیں ہونے دیتے اور بہت سے ایسے ہیں کہ وحشی نہیں ہیں، بلکہ سیدھے ہیں ان کو آسانی سے ذبح کر دیا جاتا ہے، لیکن جو متوحش ہیں کسی کو قریب پھٹکنے نہیں دیتے، لوگ مجبور ہو کر ان کے ساتھ یہ معاملہ کرتے ہیں کہ ذابحین میں سے ایک آدمی چند انچ کا لمبا لوہا لیکر کسی حکمت سے اس کے سر پر مارتا ہے، تا کہ وہ اپنی اس تکلیف میں پریشان ہوکر غافل ہو جائے، اور وہ چوٹ ایسی نہیں ہوتی کہ وہ جانور مر جائے، بلکہ اتنا ہوتا ہے کہ وہ اپنے درد میں غافل…

جواب

حنفی مقلد کے لئے جبکہ جزیہ صریحہ فقہ میں موجود ہے کسی حدیث سے از خود مسائل کا استنباط کرنا خلاف منصب تقلید ہے، مقلد کا منصب یہ ہے کہ اس کے امام نے قرآن وحدیث کو سامنے رکھ کر یا اجماع و قیاس سے جو کچھ مسائل تخریج کئے ہیں، اور اپنا مذہب مدون کر دیا اس پر عمل کرلے خود تخریج واستنباط کی جرات نہ کرے ورنہ وہ مقلد نہ رہے گا اجتہاد کا مدعی ہوگا، اور پھر اس کو ہر مسئلہ کے لئے آیت قرآنی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو