ذبیحہ حلال جھٹکا حرام کیوں؟
سوال
- غیر مسلم کافر کا ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ اہل اسلام جھٹکے کا گوشت نہیں کھاتے اور حرام سمجھتے ہیں، اور جھٹکے کی صورت میں جانور کو کم تکلیف ہوتی ہے، بلکہ ایک وار میں اس کو ختم ہو جانا پڑتا ہے، اور ذبح کی صورت میں جانور اپنی جان تڑپ تڑپ کر کھو دیتا ہے، اس صورت مذکورہ میں اور جھٹکے میں اگر تقابل کیا جائے تو ذبح میں تکلیف ایذا رسانی اور ظلم زیادہ ہوتا ہے، اس طرح سے کیوں ہے اس کا جواب بھی عقل کی رہنمائی میں دندان شکن جواب دیا جائے، اس قسم کے اعتراض سے مقصود اسلام کا مذاق اڑانا ہوتا ہے، لہذا غور کر کے جواب دیا جائے؟
جواب
جس جانور کو بسم اللہ اللہ اکبر پڑھ کر ذبح کیا جاتا ہے اس کو تکلیف نہیں ہوتی، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا پاک نام سن کر اس بات سے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کے نام پر ذبح کیا جا رہا ہے، اتنا مسرور و مست ہو جاتا ہے کہ ذبح کی تکلیف کا احساس نہیں ہوتا، اس کے خلاف جس طرح سے بھی اس کو مارا جائے اس میں بہت اذیت و تکلیف اس کو محسوس ہوتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔