اعتکاف میں فتوی کس کے قول پر ہے
سوال
رمضان کے عشرہ اخیرہ میں اعتکاف کرنے والا اگر بغیر عذر شرعی وطبیعی مسجد کی حد سے کچھ دیر کے لئے باہر چلا جائے تو اس کا اعتکاف فاسد ہوگا، یا نہیں کیا اس مسئلہ میں اس زمانہ میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر فتویٰ ہے۔
جواب
شیخ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے امام أعظم رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو راجح قرار دیا ہے، مگر صاحب ہدایہ کے طرز سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحبین کا قول راجح ہے، اس لئے اس مسئلہ میں نزاع نہیں چاہئے امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا قول اورع ہے، اور صاحبین کا قول اوسع ہے، صراحتہ فتوی کسی مذہب پر نہیں دیکھا صرف قیاس واستحسان کے لفظ سے ترجیح معلوم ہوتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔