الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے قول کی ترجیح

سوال

اگر مذکورہ مسئلہ میں امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے قول پر فتویٰ ہے، تو اس کے بعد بھی ایسے عالم کے لئے جو مفتی نہ ہو کیا یہ گنجائش رہتی ہے، کہ وہ خود بھی صاحبین رحمہم اللہ علیہ کے قول پر عمل کرے اور دوسرے عوام کو بھی صاحبین کے قول پر عمل کرے اور امام صاحب کے قول کو چھوڑ دے، اس کا ایسا کرنا کیسا ہے، جب کہ شرح عقود رسم المفتی ابن عابدین رحمتہ اللہ علیہ نے ص: ۲۷ پر تحریر فرمایا ہے: والمرجوح فى مقابلته الراجح کالعدم اس کے بعد لکھا ہے: اعلم ان من يكتفى بان يكون فتواه اوعمله موافقًا لقول اووجه في المسئلة ويعمل بما شاء من…

جواب

اب اس کے جواب کی خاص ضرورت باقی نہیں رہی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو