الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کفاره صیام

سوال

ایک شخص اپنے فرض روزہ کا کفارہ اس طرح ادا کرتا ہے کہ ایک آدمی کو دونوں وقت کھانا دیتا ہے، اپنے سامنے بٹھا کر نہیں کھلاتا ساٹھ دن برابر دیتا ہے، یا فطرہ بھی دیتا ہے، اور کھانا بھی دیتا ہے یعنی کسی دن فطرہ کسی دن کھانا دیتا ہے، ہر صورت سے اس کا کفارہ ادا ہو جاتا ہے، یا نہیں، یا کیا صورت بہتر ہے۔

جواب

روزہ کا کفارہ اوّلاً غلام آزاد کرنا ہے اگر اس کی قدرت نہ ہو تو دوماہ تک مسلسل روزہ رکھنا اگر اس کی قدرت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کھانا کھلانا اگر ایک فقیر کوکھانا دے تو اس کی دوصورتیں ہیں اول یہ کہ اپنے سامنے بٹھا کر کھلائے سواس میں کوئی مقدار متعین نہیں وہ جتنا بھی کھالے صرف اتنی شرط ہے کہ فقیر بالغ ہو یا بلوغ کے بالکل قریب ہو اور پہلے سے کھانا کھائے ہوئے نہ ہو دوسری…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو