الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کفارہ صوم کی تشریح

سوال

خباثت نفس کی وجہ سے شادی کے بعد رمضان شریف میں روزہ کی حالت میں مباشرت کرلی، ایک مولوی صاحب کے بتلانے پر ۱۲۰ رخوراکوں کا حساب لگا کر نقد دوغریبوں کو یکمشت دیدیا، ایک مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ وہ ایک دم ادا کرنے سے ادا نہیں ہوا، ۳۰ یوم یا تو کھانا کھلائے یا پونے دوسیر گندم یا اسکے برابر قیمت دینی چاہے تب کفارہ ادا ہو گا۔

جواب

رمضان المبارک کا روزہ توڑنے سے کفارہ لازم ہوتا ہے، کفارہ یہ ہے کہ دو مہینے کے مسلسل روزے رکھے، اگر ضعف یا مرض کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے تو ساٹھ غریبوں کو دو وقت شکم سیر کھانا کھلائے خواہ ساٹھ غریبوں کو کھانا دیدے، ہر ایک صدقہ الفطر کے برابر یا اس کی قیمت دیدے، ان سب صورتوں میں کفارہ ادا ہو جائے گا، جس میں ساٹھ روزے مسلسل رکھنے کی طاقت ہو، اس کے لئے کھانا کھلانا یا غلہ یا قیمت…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو