روزہ میں خوشبو کا حکم
سوال
ہومیو پیتھک میں ایک اصول معالجہ یہ بھی ہے، کہ شکر کی سادہ گولیوں کی شیشی میں دوا کے تین قطرے ڈال کر رکھ دیتے ہیں، جب گولیاں خشک ہو جائیں تو انہیں مریض کو سونگھنے کی ہدایت کریں، اس طرح کہ ناک کے ایک راستہ کو بند کر کے دوسرا راستہ کھول دیں ایک یا دو مرتبہ سونگھنا کافی ہوتا ہے، اس عمل سے روزہ فاسد ہوتا ہے کہ نہیں۔
جواب
محض کسی خوشبو یا بد بو کے بے اختیار ناک میں جانے یا قصداً سونگھنے سے خواہ علاجاً ہو یا تنشيطاً روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ اگربتی، عطر، دوا سب کا ایک حکم ہے، البتہ اگر بتی وغیرہ سلگا کر اس کا دھواں حلق میں پہنچانا مفسد صوم ہے۔ کذا في مراقی الفلاح والطحطاوي
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔