الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ناک میں دوا ڈالنا کیا مفسد صوم ہے

سوال

ایک آدمی کو دائمی ناک کی بیماری ہے، (ناک ہمیشہ بند رہتی ہے) جس کی وجہ سے دواؤں کا استعمال کرنا ضروری اور لازمی ہے، اب روزے کی حالت میں اس شخص مذکور کو ناک میں دوا ڈالنے کی اجازت ہے، یا نہیں؟ نہ ڈالنے کی صورت میں بیحد تکلیف ہوتی ہے، اور اکثر منہ سے سانس لینی پڑتی ہے، جس سے گلہ اور منہ سوکھ جاتا ہے، اور درد ہونے لگتا ہے، ناک کے اندر مادہ جم جاتا ہے، اور دوا ڈالنے کی وجہ سے وہ صاف ہو جاتا ہے، براہ کرام جواب سے مطلع فرمادیں۔

جواب

اگر حالت صوم میں ناک میں دوا ڈالی اور وہ دوا جوف دماغ میں پہنچ گئی تو روزہ ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں: او أستعط في انفه شيئًا (الى ان قال) فوصل الدواء حقيقة الى جوفه ودماغه (قوله وصل الدواء حقيقة اشار الى ان ما وقع في ظاهر الرواية من تقييد الافساد بالدواء الرطب مبنى على العادة من انه يصل والا فالمعتبر حقيقة الوصول الخ كذا في الشامي ص : ۱۴۰، ج: ۲.

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو