الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

روزہ میں انجکشن

سوال

میں آپ کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ ایک معاملہ میں اپنی تسکین کر لوں، اور آپ کی رہنمائی سے فائدہ اٹھاؤں امید کہ آپ بذات خود تکلیف و توجہ فرما کر جواب مرحمت فرمائیں گے، واقعہ یہ ہے کہ ابھی دیو بند کے دارالعلوم سے انگریزی میں ایک رسالہ رمضان المبارک پر شائع ہوا ہے یہ رسالہ مہتم جناب قاری محمد طیب صاحب کی جانب سے ہے، اس لئے اس کی بڑی اہمیت ہے، اس میں لکھا ہے کہ انجکشن لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا صرف دو استثناء کے گئے ہیں، (۱) اگر زخم کے کر کے پانی پیٹ میں لے جایا جائے یا (۲)

جواب

روزے کی نقل کردہ تعریف : کھانے پینے، اور جماع سے صبح صادق سے غروب آفتاب تک پرہیز کرنا۔ انجکشن سے چاہے وہ ۵۰ سی سی کا ہو یا اس سے کم زاید کا اس تعریف میں خلل نہیں آتا، کھانا، پینا، بدیہی ہے انجکشن کو کھانا پینا نہیں کہا جاتا، رگ کاٹ کر پانی عروق (رگوں)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو