تیس رمضان کو چاند نظر نہیں آیا
سوال
شرعی شہادت کی بناء پر قاضی شہر نے رویت ہلال کی تصدیق کر دی اور عام اعلان بھی کر دیا اور اس اعلان کے مطابق عوام وخواص نے روزے رکھنا بھی شروع کر دیئے، تیس روزے پورے ہونے کے بعد جب تیس تاریخ کو چاند دیکھنے کی نوبت آئی تو مطلع بالکل صاف تھا، مگر اس کے باوجود چاند نظر نہیں آیا، اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ صبح عید منائی جائے یا نہیں۔
جواب
اگر ہلال رمضان کی رویت کے وقت مطلع صاف نہیں تھا، بلکہ ابر تھا اور قاضی کے پاس دو گواہوں نے اپنی رویت بیان کی جس پر قاضی نے ثبوت رمضان کا اعلان کر دیا اور تیس روزے پورے ہونے پر مطلع صاف ہونے کے باوجود عید کا چاند نظر نہیں آیا حالانکہ یہ اکتسویں شب ہے، تو عید نہ کی جائے بلکہ روزہ رکھا جائے، اگر ایک شخص کی خبر پر ثبوت رمضان کا اعلان کیا گیا تھا پھر تیس روزے ہو جانے پر مطلع صاف…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔