زوال سے پہلے یا بعد چاند دیکھ کر روزہ افطار کر دینا
سوال
اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے یہاں ابر کی وجہ سے انتیس رمضان کو رویتِ ہلال نہ ہوئی مگر تیس تاریخ کو چھ سات بجے تقریباً دوسری جگہ سے ٹیلیفون اور تار آیا اور قریب دس بجے چاند بھی دیکھا گیا، بناء علیہ بعض لوگوں نے صرف تار اور ٹیلیفون پر اعتماد کر کے رویتِ ہلال سے قبل روزہ توڑ ڈالا اور بعضوں نے چاند دیکھ کر توڑا مگر قبل زوال اور بعضوں نے چاند دیکھ کر بعد زوال توڑا اور بعض لوگوں نے چاند دیکھا قبل زوال اور روزہ بعد زوال توڑا اور بعض لوگوں نے اپنی خوشی سے رکھ لیا تھا مگر کسی مولوی صاحب کے کہنے پر توڑا چاند کے یقین تار…
جواب
تار اور ٹیلیفون کی خبر شرعی شہادت نہیں ہے لہذا اس پر روزہ توڑنا جائز نہیں ہے، قریب ۱۰ار بجے چاند دیکھنا بھی روزہ توڑنے کے لئے ظاہر مذہب کے موافق شرعی حجت نہیں، اس پر عمل کرتے ہوئے روزہ توڑنا بھی منع ہے: ورويته نهاراً قبل الزوال وبعده غير معتبر على ظاهر المذهب وعليه اكثر المشائخ وعليه الفتوى بحر عن الخلاصه درمختار ومعنى عدم اعتبارها انه لا يثبت بها حكم من وجوب صوم او فطر فلذا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔