ریڈیو کی خبر پر روزہ افطار کرنا
سوال
امسال بلیا میں عید کا چاند نہیں دیکھا گیا، ہندوستان اور پاکستان کے تمام ریڈیو سے ۲۹ / رمضان کی خبر دی کہ کہیں چاند نہیں، لیکن ۱۲ بجے رات کے پاکستان ریڈیو اور بمبئی ریڈیو نے خبر دی کہ ۲۹ کا چاند ہو گیا ہے، اس خبر کو سن کر بعض عجلت پسند لوگوں نے روزہ توڑ دیا، اس میں ایک مولوی صاحب بھی ہیں انہوں نے بھی روزہ توڑ دیا، لیکن عید کی نماز دوشنبہ کو پڑھائی، حالانکہ نماز کا وقت تھا اس لئے کہ سحری کے وقت تک خبر معلوم ہو چکی تھی، اور شہر بلیا اور اس کے قرب وجوار کے تمام لوگوں نے اس خبر کو نہیں مانا، اور روزہ نہیں تو ڑا، اب…
جواب
آج کل عامہ ریڈیو پر اس طرح خبر آتی ہے کہ فلاں جگہ چاند ہو گیا، یا فلاں جگہ عید ہے، نہ یہ خبر کہ چاند کس نے دیکھا ہے ایک دونے یا زائد نے مطلع صاف تھا یا نہیں، چاند دیکھنے والے مقبول الشہادۃ ہیں یا نہیں، رویت ہلال کمیٹی نے شہادت قبول کر کے اعلان کیا ہے یا ویسے ہی یہ اعلان حکومت مسلم کی طرف سے ہے، یا محض ریڈیو کے منتظمین کی طرف سے وغیرہ وغیرہ تو ایسی خبر پر روزہ توڑنا درست نہیں،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔