بغیر ثبوت رویت کے عید کرنا درست نہیں
سوال
(۱) اگر کوئی شخص بلا چاند دیکھے صرف ریڈیو کی خبر پر ۳۰ / رمضان کو عید کرے تو جائز ہوگا یا نہیں؟ سوال: (۲) قریبی شہر کلکتہ سے بذریعہ ریڈیو اگر یہ خبر پہنچے کہ اگر چہ کلکتہ میں چاند نہیں دیکھا گیا لیکن چونکہ ڈھاکہ، دہلی وغیرہ شہر سے چاند کی خبریں بذریعہ ریڈیو آرہی ہیں، اسی بناء پر یہ کلکتہ میں عید ہو رہی ہے اس خبر پر کلکتہ والوں کو اور کلکتہ کی خبر پر دیہاتوں میں عید کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟ (۳)
جواب
اگر ۲۹ ر کو مطلع صاف ہو کہ نہ بادل ہو نہ غبار نہ دھواں ہو نہ بارش ہو نہ سرخی ہو تو محض کسی ریڈیو کی اتنی خبر پر کہ فلاں جگہ چاند ہو گیا ۳۰ / رمضان کو عید کرنا درست نہیں۔ (۲) اتنی خبر بھی کافی نہیں ہے۔ (۳) بلا تحقیق عید کرنا جائز نہیں تھا، اگر چہ بعد میں تحقیق سے حجت کا علم ہو جائے۔ (۴)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔