ریڈیو کی خبر پر افطار اور عید
سوال
ہمارے یہاں بہت سے آدمیوں نے ریڈیو کی خبر کے مطابق آج ۲۳ / جنوری ۶۶ ھ بروز اتوار سات آٹھ بجے دن کو روزہ افطار کر لیا ہے اور عید الفطر کی نماز بھی ادا کر لی لیکن ہمارے یہاں اور گردو نواح کی کسی بھی جگہ سے چاند دیکھنے کی کوئی معتبر خبر نہیں سنی، سب جگہوں سے بدستور روزہ رکھنے کی اور ۲۴ / جنوری کو عید الفطر کی نماز ادا کرنے کی خبر ہے، لہذا جن آدمیوں نے ۲۳ / جنوری کو روزہ افطار کر لیا اور عید الفطر کی نماز ادا کر لی ان کے لئے اسلام کی رو سے کیا حکم ہے؟
جواب
محض ریڈیو کی خبر پر کہ فلاں جگہ عید ہے روزہ توڑ دینا اور عید پڑھنا درست نہیں لیکن اگر رویت ہلال کمیٹی یا قاضی شرع با قاعدہ شرعی شہادت لے کر اعلان کرے یا کرائے کہ شرعی طور پر چاند کا ثبوت ہو گیا ہے، اس لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ فلاں روز عید ہے، تو یہ اعلان معتبر ہوگا، جب کہ بعد میں ثابت ہو گیا کہ اتوار کو یکم شوال تھی تو جو روزہ توڑا گیا تھا اس کی قضاء لازم نہیں، اور جو نماز عید…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔