ہلال فطر کا ثبوت
سوال
۲۹ رمضان کو بہت زیادہ ابر تھا با وجود پوری کوشش کے چاند نظر نہیں آیا اس لئے جملہ مساجد میں تراویح پڑھی گئی پھر ریڈیو سے بھی معلوم ہوا کہ ہندوستان میں کسی جگہ چاند نظر نہیں آیا، اس کے بعد نصف شب گذر جانے پر قاضی شہر کے پاس چار شخصوں نے بیان دیا، ایک نوجوان مستور الحال نے کہا کہ میں نے بازار میں قبل از مغرب ایک سکنڈ چاند دیکھا ابر آجانے سے دوسروں کو دکھا نہیں سکا، دوسرے نوجوان ڈاڑھی منڈے نے کہا کہ میں نے لکیر سی دیکھی ہے، غالبا وہ چاند تھا، تیسرے شخص نے جو رافضی ہے کہا کہ میں نے چاند دیکھا ہے، چوتھے شخص نے جو مولوی…
جواب
ہلال عید کے لئے شہادت شرعیہ ضروری ہے جو بیانات سوال میں نقل کئے گئے ہیں ان کی حیثیت مجموعی طور پر شرعی شہادت کی نہیں، صرف پہلا نو جوان صرف ایک سکنڈ چاند دیکھنے والا مستور الحال ایسا ہے کہ بعض احکام میں اس کا بیان شہادت کہلانے کا مستحق ہے، مگر نصاب تام نہ ہونے کی بناء پر صرف اس کے بیان پر ثبوت ہلال کا حکم نہیں دیا جا سکتا ہے دوسرا نوجوان اولا ڈاڑھی منڈا ہونے کی وجہ سے عادل نہیں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔