الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر مفتی بہ قول کو اختیار کرنا

سوال

رویت ہلال سے متعلق تیرہ سوالات پر مشتمل ایک استفتاء بھیجا تھا جس کا جواب آپ کے یہاں یکم ذی قعد ۲۹ کو مکمل ہوا اور آخر ذی قعدہ میں یہاں پہنچا ہے، اس کے جواب ۳ر میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ جب ایک شہر میں دو قاضی ہوں تو مراسلت ان کے درمیان جائز ہے میں نے یہ لکھا تھا کہ مفتی به مذهب امام ابو یوسف کا ہے لہذا مسافت مقرر کردہ امام ابویوسف سے کم کی صورت میں کیا صورت اختیار کی جائے مثلاً سیتا پور یہاں سے پانچ میل ہے، وہاں اگر شہادت گذر جائے تو خیر آباد میں مراسلات کیسے کی جائے، امام محمد کی روایت نوادر کی ہے، اور فقہاء نے…

جواب

یہاں کے جواب میں روایت امام محمد نوادر کو مفتی بہ نہیں کہا گیا بلکہ مفتی بہ حسب تصریح فقہاء قول ابو یوسف ہی ہے، لیکن جیسے کہ آج کل کے قاضی شرعی قاضی نہیں ان پر فقہاء کی بیان کردہ تعریف صادق نہیں آتی، ان کو قدرت الزام حاصل نہیں بلکہ تسامحا مفتی یا عالم پر قاضی کے احکام جاری کر دیئے جاتے ہیں، اسی طرح قبول کتاب قاضی کے شرائط میں بھی تسامح سے کام لیا جاتا ہے، خاص کر ایسے مسائل میں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو