اہل مشرق کی رویت اہل مغرب کے لئے
سوال
فقہ حنفی کی رُو سے ایک شہر والوں کا چاند دیکھنا دوسرے شہر والوں کے لئے حجت ہے، ان دونوں شہروں میں کتنا ہی فاصلہ کیوں نہ ہو، ابتدائے مغرب میں چاند دیکھا جائے اور اس کی خبر معتبر طریقہ سے انتہائے مشرق کے رہنے والوں کو پہنچ جائے تو ان پر اس دن کا روزہ ضروری ہوگا (در مختار ردالمحتار) ابتدائے مغرب کی رُویت انتہائے مشرق کے لئے حجت ہونے سے کیا مراد ہے؟ (۲) عرب ملک کی خبر چاند کی جو ریڈیو کے ذریعہ سے سرکاری طور پر ساری دنیا میں پہنچا دی جاتی ہے تو کیا ہمارے لئے وہ خبر حجت ہوگی، جبکہ مشرق میں اس دن رویت ممکن ہی نہیں۔ (۳)
جواب
أصل یہ ہے کہ ہر شہر والے اپنے اپنے مطلع کے مکلف ہیں جیسے کہ اوقات نماز کا حال ہے، ایسے ہی صوم وافطار کا حال ہے: صوموا لرويته وافطروا لرويته (الحدیث) یوم الشک میں اگر مطلع صاف نہ ہو تو تیس دن پورے کرنے کا حکم ہے، یوم الشک ۲۹ / تاریخ کے بعد والا دن ہے، جس میں احتمال ہیکہ اسی مہینہ کا تیسواں دن ہو، اور یہ بھی احتمال ہیکہ آئندہ مہینہ کا پہلا دن ہو، اس دن کی جو رات ہوتی ہے، یعنی ۲۹…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔