اختلاف مطالع
سوال
حضرات احناف کا خاص طور پر ہمارے اکابر دیو بند کا مطالع کے بارے میں کیا حکم ہے، آیا معتبر ہے، یا نہیں حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ایک فتویٰ عزیز الفتاویٰ میں ہے کہ معتبر راج اور ظاہر الروایات و مفتی پر عدم اعتبار اختلاف مطالع ہے، عزیز الفتاویٰ ج: ۳،ص: ۴۹، اور الفرقان شمارہ ستمبر ۷۵ء میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہیکہ اختلاف مطالع تمام مذاہب میں معتبر ہے، اب سوال یہ ہیکہ اگر معتبر نہیں تو کیا بلاد مغرب کی رویت بطریق موجب اگر اہل مشرق کو پہنچ جائے خواہ کئی دن میں پہنچ جائے تو جو آج کل کے…
جواب
واختلاف المطالع غير معتبر على ظاهر المذهب وعليه اكثر المشائخ وعليه الفتوى فيلزم اهل المشرق برؤية اهل المغرب اذا ثبت عندهم رؤية اولئك بطريق موجب وقال الزيلعى الاشبه انه يعتبر لكن قال الكمال الاخذ بظاهر الرواية احوط. در مختار على هامش الشامي ص: ۹۶، ۹۷، ج: ۲، نعمانیه)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔