رویت ہلال سے متعلق کتاب القاضی الی القاضی کی تفصیل
سوال
۲۹ رمضان المبارک ۲۹ھ یوم یکشنبہ کو خیر آباد مطلع پر ابر محیط تھا اس لئے چاند نظر نہ آسکا، اور اطراف و نواح سے شہادت بھی نہ گذری البتہ لکھنو میں ثبوت رویت ہو جانے کی وجہ سے ۱۲؍ بجے شب کو وہاں عید کا اعلان کر دیا گیا، سیتا پور (جو خیر آباد کا ضلع اور یہاں سے پانچ میل دور ہے) کے ذمہ دار حضرات نے فون سے معلوم کر کے رات ہی کو بذریعہ موٹر دو ثقہ آدمی روانہ کر دیئے جو علی الصباح مفتی صاحب فرنگی محلی کی تحریر لے آئے جس کی بناء پر سیتا پور میں عید کا اعلان کر دیا گیا، خیر آباد میں جہاں کا نظام افتاء سیتا پور سے علیحدہ ہے،…
جواب
آج کل شرعی قاضی تو یہاں موجود نہیں اور مفتی وقاضی میں جو فرق ہے وہ ظاہر ہے یعنی اول مخبر حکم ہے اور ثانی ملزم ہے، جس جگہ حاکم ملزم نہ ہو وہاں مفتی کا فتویٰ ہی عامی کے حق میں بمنزلہ حکم حاکم کے ہے، اس بناء پر مفتی کی تحریر کو کتاب القاضی کا حکم دیا جاتا ہے: ولا فرق بین المفتی والحاكم الا ان المفتى مخبر بالحكم والقاضى ملزم بها اه (شرح عقود رسم المفتى)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔