اوقات نماز کی تعیین جنتریوں سے
سوال
ہر شہر میں مقامی ریلوے وقت پوسٹ کا وقت نماز کے لیے مقامی وقت میں آدھا گھنٹہ سے زیادہ فرق پڑ جاتا ہے۔ اس لئے شریعت کے مسئلہ سے واقف کرائیں تا کہ مقامی لوگوں کو وقت نماز صحیح معلوم ہو جائے، چند لوگوں نے ریڈیو کے وقت پر زور دیا ہے، مشاہدہ ہے کہ بجلی کی کڑک اور چمک سے دو تین سکنڈ اور زیادہ بھی فرق پڑ جاتا ہے گو ایک ہی میل کے اندر ہی واقع ہوتے ہیں بجلی سے چلائی جانے والی ریڈیو رسد گاہ مدراس سے ہم تک ۱۰۰۰ کلومیٹر سے زائد ہے چار پانچ منٹ کا فرق ہو جاتا ہے اکثر مسجدوں میں صحیح وقت بتانے والی گھڑی مستعمل ہے جو بہت ہی قیمتی…
جواب
اوقات نماز کی تعیین اصالۃً علامات سماویہ سے کی جاتی ہے، جیسا کہ قرآن کریم، حدیث شریف اور کتب فقہ سے معلوم ہوتا ہے انہیں علامات سے جنتریاں بنائی جاتی ہیں، اگران علامات سے واقفیت نہ ہو، ابر وباراں وغیرہ کی وجہ سے علامات کا ظہور نہ ہو تو واقفین فن کی بنائی جنتریوں پر مجبوراً اعتماد کرنا پڑتا ہے جس جنتری اور جس گھڑی پر صحت کا ظن غالب ہو اور تجربہ سے اس کا صحیح ہونا معلوم ہو چکا ہو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔