تہجد کا وقت
سوال
ایک شخص دس گیارہ بجے نفل وتر پڑھ کر سوجاتا ہے کہ اگر تہجد کیلئے بیدار نہ ہو جائے تو نفل رات کی اسکو تہجد میں مجر ا ملیں گے یہ شخص بارہ ایک بجے جاگتا ہے لیکن اس وقت تہجد اس نیت سے نہیں پڑھتا کہ شاید صبح کی نماز کیلئے بعد میں نہ جاگ سکے اور اخیر رات میں نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا طلب گار ہے اور اس وقت تہجد بھی ادا کرے اور ساتھ ہی نماز صبح بھی ادا کرے اگر شخص تہجد کیلئے صبح نہیں جاگتا تو کیا سونے کے وقت کے نفل اسکو تہجد میں مجرا کیا ہے یا بارہ ایک بجے جب کہ وہ جاگے اس وقت تہجد ادا کرے بہتر طریقہ سے مطلع…
جواب
تہجد کا أصل وقت سو کر اٹھ کر اخیر شب ہے اگر اس وقت نہ اٹھ سکے تو سونے سے پہلے بھی پڑھ لینے سے ثواب مل جائیگا پھر سونے سے پہلے جس قدر تاخیر ہو جائے مثلاً ایک بجے سوئیگا تو اس وقت پڑھ لے یہ زیادہ اچھا ہے اگر چہ دس بجے پڑھنے سے بھی اجر کا مستحق ہو گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔