وقت عشاء و تراویح
سوال
نقشہ سحر وافطار کے حساب سے ۲۰ / رمضان المبارک کو افطار ریواڑی کا ۶ بجکر ۲۹/منٹ پر تھا شبینہ کی وجہ سے عشاء کی اذان ۷ بجکر ۳۰ منٹ پر دی گئی اور ۵ منٹ بعد یعنی ۳۵ پر جماعت کر دی گئی لہذا اذان وجماعت ہوئی یا نہیں اگر نہیں تو فرض ادا ہوا یا نہیں؟ اور تراویح ہوئی یا نہیں؟ اور اس میں جو قرآن شریف پڑھا گیا اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب
عشاء کا وقت مغرب کے وقت کے بعد شروع ہوتا ہے اور مغرب کا وقت غروب شفق تک رہتا ہے شفق کی تفسیر میں دو قول ہیں، اول یہ کہ اس سے مراد حمرت ہے اس کو مراقی الفلاح (ص۵۹) میں مفتی بہ کہا گیا ہے یہی صاحبین کا قول ہے، دوم یہ کہ اس سے مراد بیاض ہے جو کہ حمرت کے بعد ہوتی ہے اور یہ امام صاحب کا قول ہے اور شیخ ابن ہمام رحمہ اللہ نے اس کی تقویت کی ہے، بحر میں بھی اسی کو ترجیح دی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔