الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ذكر بالجبر والجماعة

سوال

دليل الخيرات في ترك المنكرات مولفہ جناب مولانا محمد کفایت اللہ دہلوی ادام فیوضہم مصدقہ علماء اطراف واکناف میں روایت دیکھی گئی ہے جو درج کی جاتی ہے۔ دوسری عبارت نفائس مرغوبہ مؤلفہ مفتی علامہ دہلوی میں بحوالہ واقعات و بحر الرائق حسب ذیل درج ہے۔ مفتی صاحب نے دلیل الخیرات کے صفحہ ۴ میں روایت عبداللہ ابن مسعود کی تشریح فرمائی ہے کہ اس روایت سے واضح ہوا کہ ان لوگوں کا فعل باوجود یہ کہ ذکر الہی و تسبیح و تہلیل تھا مگر چونکہ اس کی وضع اور ہیئت ایسی مقرر کی گئی تھی جس کا وجود شریعت مطہرہ سے نہ تھا، اس وجہ سے حضرت عبداللہ…

جواب

اصل یہ ہے کہ ذکر اللہ خواہ انفراداً ہو، خواہ اجتماعاً بالاجماع امر مستحسن ہے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں، نصوص قرآنیہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، البتہ عوارض کی وجہ سے بعض اوقات ممانعت کی جاتی ہے، مثلاً کسی خاص ہیئت وضع و تاریخ وغیرہ جن کا ثبوت شرعی نہیں ہے، ان کا التزام کرنا، تارک پر ملامت سبّ و شتم کرنا یا ریا کا پایا جانا یا جہر مفرط کا ہونا ہے جس سے نائم مصلی قاری وغیرہ کو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو