دعا جہر وسر کے درمیان
سوال
قرآن پاک میں آیا ہے ”وَادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً، اس سے کیا مراد ہے دعا کے متعلق جواب مرحمت فرمائیں؟
جواب
آداب دعاء میں یہ ہے کہ اس طرح دعا کریں کہ سر اور جہر کے درمیان ہو نہ تو بالکل دل میں ہو، نہ اتنے زور سے کہ دوسروں کے لئے مخل بنے ” ومن الاداب في الدعاء ان يدعو بخشوع وتذلل و خفض صوت اى بان يكون بين المخافة والجهر كما فى الاذكار عن الاحياء ليكون اقرب الى الحاجة (طحطاوي على مراقی الفلاح، ص ۱۷۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔