الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

فجر کے بعد امام کا مع مقتدی کے جہراً تسبیحات پڑھنا

سوال

ہمارے محلہ کے آدمی چونکہ کاروبار میں رہتے ہیں محلہ کی جامع مسجد میں ہر وقت پابندی سے نماز جماعت میں شریک نہیں ہو پاتے، صرف نماز فجر میں سب شریک ہوتے ہیں، اس لئے جماعت نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام صاحب مع مقتدیوں کے جهر التسبیح درود شریف سبحان اللہ و بحمدہ صلی اللہ علی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم استغفر الله بلا ناغہ ہمیشہ فجر کی نماز کے بعد پڑھتے ہیں، امام صاحب سے پوچھا گیا تو موصوف نے جواب دیا کہ ہم ہمیشہ حصول ثواب و برکت کے لئے پڑھتے ہیں اگر چہ ایسا پڑھنا فرض و واجب میں سے نہیں ہے، نیز درود وغیرہ پڑھنے کے وقت…

جواب

نماز فجر کے بعد درود شریف ذکر تسبیح استغفار سب کچھ درست ہے اگر دوسروں کو تشویش نہ ہو تو جہراً بھی درست ہے، مگر اس میں کسی کو مجبور نہ کیا جائے، امام صاحب کا جب تک دل چاہے پڑھتے رہیں، مقتدی جس کا دل چاہے بیٹھ کر جب تک چاہے پڑھتا رہے، اور جس کو کوئی کام کرنا ہو اس کو اختیار ہے کہ اپنا کام کرے مجبور کسی کو نہ کیا جائے،اگر کوئی چلا جائے تو اس پر ناراض نہیں ہونا چاہئے دعاء میں اصل…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو